اسلام آباد: مشرق وسطی کشمکش کے بڑھتے ہوئے شدید تناظر میں چین کے صدر شی جن پنگ نے ایک اہم اور نپا تلا بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کو عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے خطے میں امن و استحکام کی بحالی پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری کو اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کی زوردار اپیل کی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں عالمی طاقتوں کی مداخلت پر شدید تحفظات
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس اور عالمی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بیرونی طاقتوں کی بے جا مداخلت اور جیو پولیٹیکل کشمکش نے اس خطے میں دائمی امن کے قیام کی راہ میں ہمیشہ بڑی رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔
چینی صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چین ہمیشہ سے خطے میں تعمیری حل اور پائیدار امن کے قیام کے لیے کوشاں رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطی کشمکش کو فوری طور پر سفارتی ذرائع اور دو طرفہ مذاکرات سے حل کیا جانا چاہیے اور تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تشدد کے رستے سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ خطے کے بے گناہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
پائیدار امن اور چین کا اصولی عالمی موقف
شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ چین مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کے یکطرفہ اقدامات، تشدد اور طاقت کے استعمال کی شدید مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی طے شدہ قرار دادوں کے مطابق ہی ان تمام پیچیدہ تنازعات کا پائیدار حل ممکن ہے، اور خطے کی صورتحال کو مزید ابتر ہونے سے روکنے کے لیے عالمی برادری کا متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ مشرق وسطی کشمکش کو نجی سیاسی اور معاشی مفادات کا ذریعہ بنانے کے بجائے ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیں جو علاقائی استحکام، سلامتی اور اقتصادی ترقی کا ضامن بن سکے۔ چین کا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ حقیقی اور دائمی ترقی صرف امن و آشتی کے سایہ تلے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔
معاشی ترقی اور علاقائی استحکام کا باہمی تعلق
چینی صدر نے اس نقطے پر بھی روشنی ڈالی کہ مشرقِ وسطیٰ عالمی معیشت، تجارت اور توانائی کے شعبے میں مرکزی اور کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس اہم ترین خطے میں کسی بھی قسم کی بدامنی نہ صرف مشرق وسطی کشمکش کو مزید شدت بخشے گی بلکہ اس کے بھیانک اثرات عالمی معیشت، بین الاقوامی سپلائی چین اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی پر بھی براہِ راست مرتب ہوں گے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق چینی صدر کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بیجنگ خطے میں امن کی بحالی اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے پوری طرح سے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے خطے کے تمام ممالک پر بھی زور دیا ہے کہ وہ باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحاد، امن اور مشترکہ تعاون کی راہ اپنائیں۔
خبر کے آخر میں چینی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ چین آئندہ بھی مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے اور تعمیری مذاکرات کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ چینی صدر شی جن پنگ کے اس اہم ترین بیان کو دنیا بھر کی سفارتی راہداریوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد ملے گی۔