اسلام آباد: سنتھیٹک آئڈنٹیٹی فراڈ کے معاملے میں پاکستانی اور انڈین شہریوں کے ایک گروہ نے کینیڈا میں لاکھوں ڈالر کا مبینہ فراڈ کیا ہے۔ یہ فراڈ رائل بینک آف کینیڈا سمیت متعدد مالی اداروں کو متاثر کر رہا ہے۔ اس گروہ کی سرگرمیاں حالیہ دنوں میں سامنے آئیں، جب کینیڈا کی قومی پولیس نے ان کی تحقیقات شروع کیں۔
تحقیقات کے مطابق، یہ گروہ جعلی شناختی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے بینک اکاؤنٹس کھولتا تھا اور اس کے ذریعے بڑی رقمیں نکالتا تھا۔ ان افراد نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے فراڈ کو چھپانے کی کوشش کی، لیکن پولیس کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات نے ان کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔
کینیڈا میں اس نوعیت کے فراڈ کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے حکام کو متفکر کر دیا ہے۔ بینکوں کی جانب سے سخت حفاظتی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ اس طرح کے فراڈ کو روکا جا سکے۔ اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ یہ صرف کینیڈا تک محدود نہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں۔
اس گروہ کی گرفتاری کے بعد، حکام نے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اپنی شناختی معلومات کی حفاظت کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دیں۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید دور میں فراڈ کے طریقے کس طرح ترقی پذیر ہو رہے ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔