ایف بی آر کی غیر فعال حیثیت

ایف بی آر کی غیر فعال حیثیت پر چیلنج، بزرگ شہری کی درخواست

اسلام آباد: ایف بی آر کی غیر فعال حیثیت پر چیلنج، ایک بزرگ شہری نے وفاقی ٹیکس محتسب (FTO) سے درخواست کی ہے کہ وہ وفاقی بورڈ آف ریونیو (FBR) کے خلاف کارروائی کرے۔ بزرگ شہری، جو کہ بہبود/پنشنر سرٹیفکیٹ سے آمدنی حاصل کرتا ہے، نے 1 نومبر 2026 کو خود کو “غیر فعال” قرار دیے جانے پر یہ اقدام اٹھایا۔

بزرگ شہری کی شکایت یہ ہے کہ اس کی ٹیکس کی حساب کتاب میں غلطی ہوئی ہے، اور اس نے اس غلطی کی درستگی کے لیے ایک درخواست بھی دی ہے جو ابھی تک زیر التواء ہے۔ اس نے FBR کی جانب سے اپنی حیثیت کی تبدیلی کے فیصلے کے خلاف آواز اٹھائی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی مالی حالت متاثر ہوئی ہے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب بزرگ شہری نے محسوس کیا کہ اس کی ٹیکس کی حیثیت میں تبدیلی نے اس کی پنشن کی وصولی میں رکاوٹ ڈال دی ہے۔ اس نے وفاقی ٹیکس محتسب سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے کی فوری تحقیقات کرے تاکہ اس کی حیثیت کو درست کیا جا سکے۔

بزرگ شہری کا کہنا ہے کہ اس کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ اس کی پنشن ہے، اور اس کی غیر فعال حیثیت نے اس کی مالی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس نے FBR کی کارروائیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ عمل شفافیت کی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ معاملہ نہ صرف بزرگ شہری کے لیے بلکہ دیگر ٹیکس دہندگان کے لیے بھی ایک اہم مثال بن سکتا ہے جو کہ ٹیکس کی غلطیوں کے نتیجے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وفاقی ٹیکس محتسب کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔