اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ سامنے آیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے پابند نہیں ہیں۔ یہ فیصلہ بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی جانب سے دائر کردہ نظر ثانی کی درخواست کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی لیز بحالی اور قبضے سے متعلق درخواست کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق، وفاقی آئینی عدالت نے اس معاملے میں اپنی خود مختاری کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابندی کرنے کے لیے مجبور نہیں ہیں۔ یہ فیصلہ قانونی دائرہ کار میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے اثرات ملک کی عدلیہ پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی درخواست میں کوئی ایسی بنیاد نہیں تھی جس کی بنا پر اسے قبول کیا جا سکے۔ اس فیصلے کے بعد، قانونی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ فیصلہ آئینی عدالت کی خود مختاری کو مزید مستحکم کرتا ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب ملک میں عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کے اس فیصلے نے نہ صرف قانونی حلقوں میں بلکہ عوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے۔