اسلام آباد: دہشت گرد حملوں میں کمی کے حوالے سے اکتوبر میں 37 فیصد کی بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ بات ایک تھنک ٹینک کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں سامنے آئی ہے، جس میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری کا ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے حالیہ مہینوں میں افغانستان سے ملحقہ دونوں صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عسکریت پسندی کا سامنا کیا ہے۔ 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ان صوبوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ تاہم، اکتوبر میں ریکارڈ کی گئی کمی ایک مثبت پیش رفت ہے جو سکیورٹی اداروں کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔
اسلام آباد حکومت کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ان کے خلاف مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری سے عوام میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے، اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ مہینوں میں بھی یہ بہتری برقرار رہے گی۔
یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرچہ چیلنجز موجود ہیں، لیکن سکیورٹی اداروں کی کوششوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی ممکن ہے۔ یہ صورتحال ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے ایک خوش آئند علامت ہے۔