اسلام آباد: پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بننے کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو افغانستان سے ہونے والے حملوں پر طالبان کی جانب سے مناسب کارروائی نہ ہونے پر گہری تشویش ہے۔
جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران، جو جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں منعقد ہوا، مارکو روبیو نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ان دہشت گرد حملوں کی وجہ سے خطرہ لاحق ہے جن کی سرپرستی افغانستان کی سرزمین سے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے اسلام آباد کے تحفظات کو سن لیا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے۔
روبیو نے واضح کیا کہ طالبان نے ان حملوں کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے ہیں، جو کہ پاکستان کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کے تحفظات کو سمجھتا ہے اور اس معاملے میں مزید تعاون کی ضرورت ہے۔
یہ بیان اس وقت آیا ہے جب پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، اور حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان کی حکومت نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں کریں تاکہ خطے میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔