مغلیہ دور کا لاہور

مغلیہ دور کا لاہور: شاہی قلعہ کی نایاب جھلکیاں

اسلام آباد: مغلیہ دور کا لاہور، تاریخی شاہی قلعہ کی نایاب جھلکیاں پیش کرتا ہے۔ یہ قلعہ مغلیہ فنِ تعمیر کی ایک شاندار مثال ہے، جسے 1981ء میں عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا تھا۔ لاہور کی تاریخ میں یہ قلعہ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، جہاں ماضی کی شان و شوکت کی جھلکیاں آج بھی موجود ہیں۔

شاہی قلعہ کی تعمیر کا آغاز 1566ء میں ہوا اور یہ مغل بادشاہ اکبر کے دور میں مکمل ہوا۔ اس قلعے کی دیواریں، دروازے اور باغات آج بھی اس دور کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔ قلعے کے اندر موجود مختلف عمارتیں، جیسے کہ دیوانِ عام اور دیوانِ خاص، اس دور کی ثقافت اور طرزِ زندگی کی عکاسی کرتی ہیں۔

حال ہی میں، شاہی قلعہ میں ایک منفرد تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماضی کے لاہور کی جھلکیاں پیش کی گئیں۔ اس تقریب میں مختلف ثقافتی سرگرمیاں، موسیقی اور رقص شامل تھے، جو اس دور کی زندگی کو زندہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ شرکاء نے اس موقع پر قلعے کی خوبصورتی اور تاریخی اہمیت کو سراہا۔

یہ تقریب نہ صرف لاہور کی تاریخ کو اجاگر کرتی ہے بلکہ نوجوان نسل کو بھی اپنے ورثے سے جوڑنے کا ایک ذریعہ ہے۔ مغلیہ دور کا لاہور آج بھی اپنی ثقافتی ورثے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس قلعے کی خوبصورتی اور تاریخی اہمیت کو دیکھتے ہوئے، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مغلیہ دور کا لاہور آج بھی زندہ ہے۔