اسلام آباد: طالبان حکومت کا بیان پاکستان کی گمراہ کن سوچ کو بے نقاب کرتا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے اس بیان پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان نے پاکستان میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے، جس میں حکومت کی پالیسیوں اور نظریات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے ترجمان نے کہا کہ طالبان کے اس بیان میں حقیقت سے دور کی باتیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بیان نہ صرف پاکستان کی داخلی سیاست کو متاثر کرتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتا رہے گا۔
ترجمان نے یہ بھی کہا کہ طالبان حکومت کی سوچ میں بہت سی خامیاں ہیں، جو کہ ان کے اپنے ملک کی صورتحال کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ طالبان کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں حقیقت کی عکاسی نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، پاکستان نے ہمیشہ امن اور استحکام کی کوششیں کی ہیں۔
اس بیان کے بعد، پاکستان کی وزارت اطلاعات نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ طالبان حکومت کے بیانات کا بغور جائزہ لیں اور ان کے اثرات کا اندازہ لگائیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ طالبان حکومت کی سوچ میں بہتری کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے ملک اور خطے میں امن قائم کر سکیں۔