اسلام آباد: پنجاب کے سرکاری کالج کے نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے عوامی شعبے کی یونیورسٹیوں (ترمیمی) ایکٹ 2026 کے تحت ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس میں صوبے بھر میں چھ سرکاری تعلیمی اداروں کے نام تبدیل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس ترمیم کے تحت اداروں کو اپنے ناموں سے ‘یونیورسٹی’ کا لفظ ہٹانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
اس تبدیلی سے متاثرہ اداروں میں گورنمنٹ کالج لاہور، گورنمنٹ کالج فیصل آباد، اور گورنمنٹ کالج برائے خواتین شامل ہیں۔ یہ اقدام تعلیمی نظام میں بہتری لانے اور اداروں کی شناخت کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں تعلیمی معیار کو بلند کرنے اور طلباء کی سہولت کے لیے کی جا رہی ہیں۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پنجاب میں تعلیمی اصلاحات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ نئے ناموں کے ذریعے اداروں کی پہچان میں بہتری لانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ طلباء کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ تبدیلیاں طلباء کی تعلیمی ترقی کے لیے اہم ہیں۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ نئے ناموں کی تبدیلی کا عمل جلد مکمل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی، حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کو اپنے ناموں میں تبدیلی کے لیے مناسب وقت دیا جائے گا تاکہ وہ اس عمل کو آسانی سے مکمل کر سکیں۔