اسلام آباد: روسی خطرے پر پینٹاگون کا مشورہ نیٹو اتحادیوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت دیتا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے بالخصوص بالٹک ریاستوں لیتھوانیا، لٹویا اور اسٹونیا کے رہنماؤں کو کہا ہے کہ وہ روس کے خلاف سخت بیانات دینے سے گریز کریں۔ یہ مشورہ اس وقت دیا گیا ہے جب خطے میں روسی فوجی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، جس سے علاقائی استحکام متاثر ہو رہا ہے۔
پینٹاگون کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ سخت بیانات سے نہ صرف روس کی اشتعال انگیزی میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ یہ نیٹو کے اندرونی اتحاد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو کے اتحادیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بیانات میں احتیاط برتیں اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی سے دور رہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ نیٹو کے رکن ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
یہ مشورہ ایسے وقت میں آیا ہے جب روس نے اپنی فوجی موجودگی کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ نیٹو کے قریب اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کیا ہے۔ پینٹاگون نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نیٹو کے اتحادیوں کو اپنے دفاعی اقدامات کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں بیان بازی میں بھی احتیاط برتنی چاہیے۔
پینٹاگون کی یہ ہدایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سطح پر امن و امان کی صورتحال کس قدر نازک ہے۔ نیٹو کے رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں اور کسی بھی قسم کی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کریں۔