کریکٹر سرٹیفکیٹ

کریکٹر سرٹیفکیٹ پر مقدمے کا اندراج ختم، ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریوں کے بنیادی حقوق کی پاسداری کو یقینی بناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ عدالت سے کسی بھی مقدمے میں باقاعدہ بری ہونے والے افراد کے کریکٹر سرٹیفکیٹ میں متعلقہ ایف آئی آر یا پولیس کیس کا کوئی منفی حوالہ یا تفصیل درج نہ کی جائے۔ عدالت عالیہ نے اپنے اس اہم ترین تحریری فیصلے میں واضح کیا ہے کہ جب کوئی شخص قانون کی نظر میں بے گناہ ثابت ہو کر بری ہو جاتا ہے تو پولیس یا دیگر انتظامی ادارے اس کی دستاویزات پر ماضی کے ختم شدہ کیسز کا اندراج کر کے اس کے مستقبل کو متاثر کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا انقلابی فیصلہ اور قانونی نقطہ نظر

عدالت کے سامنے پیش کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران معزز جج نے ریمارکس دیے کہ آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے اور روزگار حاصل کرنے کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔ ماضی میں پولیس کی جانب سے جاری کردہ کریکٹر سرٹیفکیٹ میں بری ہونے والے مقدمات کا ذکر درج ہونے کی وجہ سے ہزاروں شہریوں کو نہ صرف ملازمتوں کے حصول میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا بلکہ بیرونِ ملک سفر یا ویزا کے عمل میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوتی تھیں۔ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ بریت کے بعد کسی بھی شہری کے سابقہ ریکارڈ کا اشتہار بنانا اس کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

شہریوں پر منفی اثرات اور پولیس ریکارڈ اصلاحات

اس سے قبل پولیس کے نظام اور ڈیٹا بیس میں یہ طریقہ کار رائج تھا کہ اگر کسی شخص پر ماضی میں کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہو اور بعد میں عدالت اسے تمام الزامات سے مکمل طور پر بری بھی کر دے ، تب بھی پولیس کی جانب سے جاری کیے جانے والے ویریفکیشن یا کریکٹر سرٹیفکیٹ پر کیس کی تفصیلات نمایاں کی جاتی تھیں۔ اس کی وجہ سے شہریوں کے کردار اور ساکھ پر منفی سوالات اٹھائے جاتے تھے اور بے گناہ ثابت ہونے کے باوجود وہ سماجی اور معاشی طور پر سزا بھگت رہے تھے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کے اس روایتی نظام کی اصلاح کرتے ہوئے نفاذِ قانون کے تمام اداروں کو سخت ہدایت کی ہے کہ ڈیٹا بیس کو فوری طور پر جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے۔

ملازمت اور ویزا کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی ریلیف

قانونی ماہرین نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی پاسداری کی طرف ایک تاریخی قدم قرار دیا ہے۔ اس فیصلے سے خاص طور پر ایسے نوجوانوں کو بے حد فائدہ پہنچے گا جو ماضی میں کسی غلط فہمی یا بے بنیاد مقدمے کی زد میں آئے اور بعد میں عدالتوں سے باوقار طریقے سے بری ہو گئے۔ اب وہ اپنا کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کر کے بنا کسی رکاوٹ کے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں اور بیرون ملک تعلیم یا روزگار کے لیے بھی باآسانی ویزا عمل مکمل کر سکتے ہیں۔

وزارت داخلہ اور آئی جی پولیس کو فوری ہدایات

ہائیکورٹ کے فیصلے کی کاپی چیف سیکرٹری ، آئی جی پولیس اسلام آباد اور وزارت داخلہ کو ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ فیصلے پر بلا تاخیر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ تمام پبلک سروس سینٹرز اور پولیس خدمت مرکز پر بھی یہ احکامات لاگو ہوں گے اور آئندہ کسی بھی شہری کے کریکٹر سرٹیفکیٹ میں بریت کے بعد کیسز کو ظاہر کر کے اس کے لیے پریشانی کا باعث نہیں بنایا جائے گا۔ اس فیصلے کو قومی سطح پر شہریوں کی داد رسی اور عدالتی نظام پر اعتماد کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔