ریاض: سعودی عرب کے مشہور سیاحتی شہر طائف میں موسلادھار بارش کے باعث گرمی کا زور ٹوٹ گیا اور موسم انتہائی خوشگوار ہو گیا، تاہم مسلسل تیز بارش کے نتیجے میں مختلف نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں اور آمدورفت کے نظام میں شدید خلل پڑا ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں اور مضافات میں اچانک گہرے بادل چھا گئے جس کے بعد شدید آندھی اور تواتر کے ساتھ بارش کا سلسلہ شروع ہوا۔ طائف میں موسلادھار بارش کے بعد جہاں درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی اور شہریوں نے شدید گرمی کے بعد سکون کا سانس لیا، وہیں بعض مرکزی شاہراہوں پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی سست روی کا شکار ہو گئی۔
مقامی انتظامیہ اور شہری دفاع کی ٹیموں نے فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاکہ ندی نالوں کی طغیانی اور سڑکوں پر پانی کے جمع ہونے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔ حکام کی جانب سے شہریوں اور مقیم افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ندی نالوں کی گزرگاہوں سے دور رہیں۔
بارش کا سلسلہ شروع ہوتے ہی مقامی شہریوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد نے خوشگوار ہوائیں چلنے پر پارکوں اور پہاڑی مقامات کا رخ کر لیا۔ طائف کو اپنی دلفریب قدرتی خوبصورتی اور معتدل آب و ہوا کی وجہ سے سعودی عرب کا اہم سیاحتی مرکز سمجھا جاتا ہے، اور طائف میں موسلادھار بارش کے بعد یہاں کا ماحول مزید سحر انگیز ہو گیا ہے۔
سعودی عرب کے قومی مرکز برائے موسمیات نے آنے والے چند دنوں کے دوران طائف، مکہ مکرمہ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں مزید بارشوں اور شدید ہواؤں کی پیشگوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور وادیوں میں طغیانی کا خدشہ موجود ہے، اس لیے تمام تر حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں۔
شہری دفاع کے ادارے نے تمام ہنگامی وسائل کو الرٹ پر رکھ دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ طائف میں موسلادھار بارش کے موجودہ اسپیل کے دوران مقامی حکام حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور سڑکوں سے پانی کی نکاسی کا کام تیز رفتاری سے جاری ہے۔