پاکستان میں یونانی سفارت خانے نے سینکڑوں پاکستانیوں کے ویزے منسوخ کر دیے

یونانی سفارت خانے نے سینکڑوں پاکستانیوں کے ویزے منسوخ کر دیے “گریک سٹی ٹائمز” نامی یونانی ویب سائٹ سے میڈیا کے مطابق پاکستان میں یونانی سفارت خانے نے روزگار کے حصول کیلئے یونان جانے کے خواہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔ “گریس اردو” نامی فیس بک اکاونٹ پر کیے گئے انکشافات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جن پاکستانیوں کے ویزے منسوخ کیے گئے ہیں، یہ غریب پاکستانی یونان کے ویزے کے حصول کیلئے ایجنٹ کو لاکھوں روپے کی ادائیگی کر چکے تھے
ویزے منسوخ کیے جانے کے عمل سے متاثر ہونے والے پاکستانیوں نے اپنے ایجنٹس کو یونان کے ویزے کیلئے 2 سے 5 لاکھ روپے تک کی ادائیگی کی، جس کے بعد ان پاکستانیوں کیلئے یونان سے ویزوں کا اجراء کیا گیا تاہم پھر پاکستان میں یونانی سفارت خانہ کوئی وجہ بتا کر پہلے سے جاری کردہ ویزے منسوخ کر دیتا ہے۔ یوں اب تک سینکڑوں پاکستانی اپنا پیسہ ضائع کر چکے، جبکہ انہیں ویزہ بھی نہیں ملا
سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر اسلام آباد میں یونانی سفارت خانے نے ویزے منسوخ ہی کرنے ہوتے ہیں، تو پھر یونان سے ویزوں کا اجراء کیوں کیا جاتا ہے غریب پاکستانیوں کا پیسہ کیوں برباد کیا جا رہا ہے؟۔ یونان اور پاکستان کی حکومتوں سے اس معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے گریک سٹی ٹائمز کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ویزے منسوخی کا معاملہ تو ان پاکستانیوں کا ہے جو قانونی طریقے سے یونان جانا چاہتے ہیں، تاہم ہزاروں کی تعداد میں ایسے افراد بھی ہیں جو غیر قانونی طریقے سے یونان اور یورپ داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اس حوالے سے حسنین شاہ نامی سمگلر کی جانب سے بی بی سی سے کی گئی گفتگو میں اہم انکشافات کیے گئے۔ حسنین شاہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے انسانی سمگلنگ کے دھندے میں ملوث ہے، تاہم اس شخص کا دعوٰی ہے کہ حال ہی میں یونان کے سمندر میں کشتی ڈوبنے کے واقعے میں 300 پاکستانیوں کی ہلاکت میں اس کا زیادہ کردار نہیں تھا۔ حسنین شاہ نے انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ سالوں میں ہزاروں پاکستانیوں کو بیرون ملک بھجوا چکا، یہ کاروبار اس لیے شروع کیا کیونکہ کرنے کیلئے اور کوئی کاروبار نہیں تھا۔
پاکستان میں بے روزگار اس قدر بڑھ چکی ہے کہ لوگ ہمارے پاس آ کر درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے بیٹوں اور بھائیوں کو کسی طرح بیرون ملک بھجوا دیں حسنین شاہ کا دعوٰی ہے کہ انسانی سمگلنگ کے اس دھندے میں وہ مرکزی کردار نہیں ہے، بلکہ لیبیا میں بیٹھے افراد اس دھندے کے مرکزی کردار ہیں، جو ناصرف بہت امیر ہیں بلکہ طاقتور بھی ہیں حسنین شاہ کے مطابق انہیں تو اس دھندے سے ہونے والی آمدن کا 10 فیصد حصہ بھی نہیں ملتا پاکستان میں تیزی سے زوال کا شکار ہوتی معیشت، 40 فیصد کی مہنگائی اور پاکستانی روپیہ کی بے قدری کے باعث پاکستانیوں کی بڑی تعداد بیرون ممالک جانے کیلئے کوشاں ہے، ان پاکستانیوں کو لگتا ہے کہ بیرون ممالک ان کی معمولی آمدن بھی پاکستان میں رہ کر کمائی جانے والی آمدن سے زیادہ ہی ہو گی۔ گزشتہ سال کے ایک سروے میں انکشاف ہوا تھا کہ پاکستان میں 15 سے 24 سال کی عمر تک کے نوجوانوں کا 62 فیصد پاکستان کو خیرباد کہنا چاہتا ہے، ان نوجوانوں میں سے کچھ قانونی طریقہ کار اختیار کر کے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں، تو ایک بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو بیرون ملک جانے کیلئے غیر قانونی راستے اختیار کرنے کیلئے بھی تیار ہے