کراچی: خواتین کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، جس کے خلاف ایف آئی اے نے کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔ سال 2026 میں، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 40 خواتین کو ایئرپورٹس پر غیر قانونی طریقوں سے بیرونِ ملک جانے کی کوشش کرتے ہوئے روکا۔ یہ کارروائیاں انسانی اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ملک میں اس غیر قانونی کاروبار کا خاتمہ کرنا ہے۔
ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر میاں اجمل نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ادارہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف سختی سے کارروائی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نیٹ ورک بین الاقوامی سطح پر کام کر رہا تھا اور اس کے پیچھے منظم گروہ موجود ہیں جو خواتین کو دھوکہ دے کر بیرون ملک بھیجنے کی کوشش کر رہے تھے۔
میاں اجمل نے واضح کیا کہ ایف آئی اے نے اس نیٹ ورک کے خلاف کئی دیگر کارروائیاں بھی کی ہیں اور اس کے مزید ارکان کی گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع دیں تاکہ اس نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
یہ کارروائیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ حکومت انسانی اسمگلنگ کے خلاف سنجیدہ ہے اور اس کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھا رہی ہے۔ ایف آئی اے کی یہ کوششیں نہ صرف خواتین کی حفاظت کے لیے اہم ہیں بلکہ ملک کی ساکھ کو بھی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔