حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا نتیجہ، اب سستی ترین سواری بھی سستی نہیں رہے گی

پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا نتیجہ، اب سستی ترین سواری بھی سستی نہیں رہے گی تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان ریلویز بھی منفی اثرات سے نہ بچ سکا جس کے باعث پاکستان ریلویز نے مسافر ٹرینوں کے کرایوں میں اضافے پر سوچ بچار شروع کر دیا ہے بتایا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے پاکستان ریلویز پر 20کروڑ 90لاکھ روپے کا اضافی بوجھ آن پڑا ہے واضح رہے کہ واضح رہے کہ منگل کی صبح وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان کیا اسحاق ڈار کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل 19 روپے 90 پیسے مہنگا کیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 273 روپے 40 پیسے ہوگئی انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں 19 روپے 95 پیسے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 272 روپے 95 پیسے ہوگئی ہے حکومتی اعلان کے بعد پٹرولیم مصنوعات مہنگی کیے جانے کے حوالے سے اہم انکشافات بھی ہوئے۔ دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق اوگرا کی جانب سے حکومت کو پٹرولیم مصنوعات 10 روپے مہنگی کرنے یا قیمتوں کو برقرار رکھنے کی تجاویز دی گئی تھیں، تاہم وزارت خزانہ نے ناصرف اوگرا کی تجاویز مسترد کیں، بلکہ حیران کن طور پر قیمتوں میں 20 روپے تک کا اضافہ کر دیا بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے اب ایک لیٹر پٹرول پر 100 روپے سے بھی زائد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے عالمی منڈیوں سے 85 ڈالر فی بیرل کے حساب سے تیل خریدا، بین الاقوامی ٹیکس اور سرچارج شامل کر کے تیل کی قیمت 92 ڈالر 82 سینٹ فی بیرل بنتی ہے، پٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 166 روپے 37 پیسے فی لٹر بنتی ہے۔ تمام تر ٹیکسز عائد کرنے کے بعد بھی پٹرول کی قیمت 260 روپے فی لٹر بنتی تھی، تاہم حکومت نے پٹرول پر کل 104 روپے ٹیکسز عائد کر کے قیمت 273 روپے کر دی