اسلام آباد: جدید طبی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ اتفاقی ورزش کے فوائد سے فائدہ اٹھا کر انسان جم یا سخت کثرت کے بغیر بھی شاندار صحت حاصل کر سکتا ہے۔ اکثر افراد یہ سمجھتے ہیں کہ جسمانی طور پر فٹ رہنے اور بیماریوں سے بچنے کے لیے باقاعدہ جم جانا یا روزانہ گھنٹوں ورزش کرنا انتہائی ضروری ہے، تاہم نئے سائنسی انکشافات نے اس پرانے نظریے کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق روزمرہ زندگی کے معمولات کے دوران ہونے والی غیر محسوس جسمانی حرکات، جنہیں سائنسی اصطلاح میں اتفاقی ورزش کہا جاتا ہے، انسان کی مجموعی جسمانی اور ذہنی صحت پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ان حرکات میں لفٹ کے بجائے سیڑھیاں استعمال کرنا، گھر کی صفائی ستھرائی کرنا، مارکیٹ تک پیدل جانا اور کام کے دوران مسلسل بیٹھنے کے بجائے وقفے وقفے سے چہل قدمی کرنا شامل ہے۔
اتفاقی ورزش اور عام ورزش میں بنیادی فرق
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی ورزش کے لیے انسان کو الگ سے وقت، مخصوص لباس اور خاص ماحول کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے مصروف ترین زندگی میں اکثر لوگ اسے برقرار نہیں رکھ پاتے۔ اس کے برعکس اتفاقی ورزش انسان کے روزمرہ کے کاموں کا حصہ ہوتی ہے جس کے لیے نہ تو الگ سے وقت نکالنا پڑتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی اضافی محنت یا اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے۔
تحقیق کے مطابق دن بھر میں کی جانے والی یہ چھوٹی چھوٹی جسمانی حرکات اکٹھی ہو کر اتنی ہی توانائی جلا دیتی ہیں جتنی کہ کسی جم میں نصف گھنٹے کی سخت ورزش کے ذریعے جلائی جاتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جو لوگ دن بھر متحرک رہتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی سرگرمیوں کو اپنی عادت بنا لیتے ہیں، ان کا میٹابولزم زیادہ فعال رہتا ہے اور وہ وزن کو کنٹرول میں رکھنے میں زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔
صحت پر مثبت اثرات اور سائنسی شواہد
جدید سائنسی تجربات کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ روزمرہ زندگی میں اتفاقی ورزش کے فوائد کو اپنانے والے افراد میں دل کی بیماریاں، ذیابیطس اور بلڈ پریشر کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق جب انسان دن میں کئی بار تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے متحرک ہوتا ہے تو اس سے جسم میں خون کی گردش بہتر ہوتی ہے اور شریانوں میں چربی جمنے کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ، کمپیوٹر یا ڈیسک پر گھنٹوں بیٹھ کر کام کرنے والے افراد کے لیے ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ وہ ہر آدھے گھنٹے بعد کم از کم دو منٹ کی چہل قدمی کو اپنا معمول بنائیں۔ اس چھوٹی سی عادت سے نہ صرف کمر کے درد اور جوڑوں کے مسائل سے نجات ملتی ہے بلکہ ذہنی تناؤ اور تھکاوٹ میں بھی واضح کمی دیکھنے میں آتی ہے۔
روزمرہ زندگی میں اتفاقی ورزش کا عملی استعمال
اپنی زندگی میں ان مثبت تبدیلیوں کو شامل کرنے کے لیے کسی بڑی منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ فون پر بات کر رہے ہیں تو بیٹھنے کے بجائے کمرے میں چہل قدمی کرتے رہیں، گاڑی یا موٹر سائیکل کو منزل سے کچھ فاصلے پر پارک کریں تاکہ کچھ قدم پیدل چلا جا سکے، اور دفتر میں ساتھیوں کو ای میل بھیجنے کے بجائے بذات خود ان کی میز تک جا کر بات کریں۔
اسی طرح گھریلو کام کاج جیسے پودوں کو پانی دینا، گاڑی دھونا یا کپڑے استری کرنا بھی بہترین جسمانی تحرک فراہم کرتے ہیں۔ سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی سرگرمیاں دراصل انسانی جسم کے قدرتی نظام کو فعال رکھتی ہیں اور انسان کو طویل العمری اور توانائی فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
نتیجہ اور ماہرین کا مشورہ
خلاصہ یہ ہے کہ صحت مند زندگی گزارنے کے لیے سخت اور تھکا دینے والی ورزش ہی واحد حل نہیں ہے۔ اگر آپ کے پاس جم جانے کے لیے وقت نہیں ہے تو مایوس ہونے کے بجائے اپنے روزمرہ کے طرز عمل میں تحرک پیدا کریں۔ اتفاقی ورزش کے فوائد کو اپنے شعبہ ہائے زندگی کا حصہ بنا کر آپ بغیر کسی اضافی بوجھ یا تھکن کے ایک طویل، پرمسرت اور صحت مند زندگی کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔