مسقط: مشرقِ وسطیٰ کی اہم ریاست میں انتظامی و قانونی اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے سلطنت عمان شاہی فرمان کے ذریعے دو نئے اور انتہائی اہم قوانین کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔ سلطنت کے سربراہ سلطان ہیتھم بن طارق نے اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یہ احکامات جاری کیے ہیں، جن کا مقصد ریاست کی قانون ساز کونسل اور اعلیٰ انتظامی امور میں مزید بہتری اور شفافیت لانا ہے۔
مجلسِ عمان کے قانون میں بنیادی ترمیم
غیر ملکی خبر رساں اداروں اور عمانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق جاری کردہ نیا سلطنت عمان شاہی فرمان نمبر 97/2026 قانون ساز ادارے ‘مجلسِ عمان’ (Council of Oman) کے آئینی اور قانونی احکامات کی کچھ مخصوص دفعات میں ترمیم سے متعلق ہے۔ اس ترمیم کے پہلے آرٹیکل میں واضح کیا گیا ہے کہ سابقہ شاہی فرمان نمبر 7/2021 کے تحت نافذ کردہ قوانین کی بعض بنیادی شقوں کی تجدید کی گئی ہے تاکہ پارلیمانی نظام کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
نئے قوانین کے تحت مجلسِ عمان کی فعالیت اور اس کے اراکین کے قانون سازی میں کردار کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔ شاہی فرمان کی رو سے مجلسِ عمان کے دونوں ایوانوں، یعنی مجلس الشوریٰ اور مجلس الدولة کے باہمی اشتراکِ عمل کو بہتر بنانے اور قوانین کی منظوری کے عمل کو زیادہ تیز اور مؤثر بنانے کے لیے نئے قواعد و ضوابط نافذ کیے گئے ہیں۔
حکومتی ڈھانچے اور آئینی اصلاحات میں جدید موڑ
اس پیش رفت کے ساتھ سلطنت عمان شاہی فرمان کے ذریعے دیگر انتظامی ڈھانچے کی بحالی اور تنظیمِ نو کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ سلطان ہیتھم بن طارق کی جانب سے جاری کردہ ان اعلیٰ فرمودات کا بنیادی مقصد عمانی ویژن 2040 کے اہداف کا حصول ہے، جس کے تحت سلطنت میں اقتصادی، سیاسی اور সামাজিক اصلاحات کا ایک جامع فریم ورک نافذ العمل ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق مجلسِ عمان کے قوانین میں کی جانے والی یہ ترامیم ریاست میں قانون کی بالادستی، آئینی استحکام اور عوامی نمائندگی کو مزید وسعت دیں گی۔ سلطان ہیتھم بن طارق نے جب سے عمان کی باگ ڈور سنبھالی ہے، انہوں نے ریاست کے اداروں کو زیادہ بااختیار اور خود مختار بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے ہیں اور حالیہ فیصلہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
عالمی سطح پر فیصلوں کا خیرمقدم
عمان میں قانون سازی کے طریقہ کار میں اس بڑی تبدیلی کو بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر بھی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔ خلیجی تعاون کونسل اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے ان آئینی اقدامات کو سراہا ہے۔ جاری کردہ سلطنت عمان شاہی فرمان کو فوری طور پر رسمی گزٹ میں شائع کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ تمام متعلقہ ادارے اس کی شقوں پر فی الفور عمل درآمد یقینی بنا سکیں۔
سرکاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان قوانین کے اطلاق سے نہ صرف قانون سازی کا عمل شفاف بنے گا بلکہ عوامی بہبود اور ریاستی اداروں کی کارکردگی کی نگرانی بھی زیادہ موثر انداز میں کی جا سکے گی۔ شاہی دیوان کی جانب سے جاری اعلان کے بعد عمانی عوام اور سیاسی حلقوں نے ان اصلاحات کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے اور اسے ملک کے روشن مستقبل کی طرف ایک عظیم قدم قرار دیا ہے۔