اسلام آباد: ایران کے خلاف امریکی جنگی حکمت عملی میں اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں صرف جنگی طیاروں، بحری بیڑوں اور بموں کی تعداد تک محدود نہیں ہیں، بلکہ واشنگٹن اب ایران کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت، عسکری رابطوں اور معاشی وسائل کو مربوط دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ شواہد سے ایسی حکمت عملی ابھرتی ہے جس میں دور سے حملہ، مسلسل نگرانی، سمندری ناکہ بندی اور مذاکرات ساتھ چلتے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ تکنیکی برتری سیاسی اطاعت کیسے پیدا کرے گی؟
23 اکتوبر کی برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی اور اسرائیلی افواج نے وسط مدتی انتخابات کے بعد ممکنہ نئے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں۔ ان میں توانائی کے ڈھانچے، جوہری تنصیبات، میزائلوں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کے امکانات شامل ہیں۔ تاہم، منصوبہ تیار ہونا حملے کا حتمی فیصلہ نہیں ہے۔ اسی روز استنبول میں علاقائی اور یورپی وزرائے خارجہ نے نئی کارروائی سے جنگ پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا۔
یہ نئی حکمت عملی ایران کے خلاف ایک جامع نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے، جہاں امریکہ اپنی عسکری طاقت کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مذاکراتی راستے کو بھی کھلا رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔ اس صورتحال میں، ایران کی جانب سے بھی جوابی اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے، جو کہ خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔
امریکہ کی یہ نئی حکمت عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس طرح منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر بھی اس معاملے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔