اسلام آباد: طاہر ساقی کی وفات نے سرائیکی موسیقی کی دنیا کو غمگین کردیا ہے۔ طاہر ساقی، جو اپنی منفرد دھنوں کے باعث مشہور تھے، نے سرائیکی موسیقی کو ایک نئی جہت دی۔ ان کی تخلیق کردہ دھنیں جیسے ‘میڈا رانجھنا’، ‘سانول سانول’، اور ‘ہم تم ہوں گے بادل ہوگا’ آج بھی موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔
سرائیکی وسیب کا ضلع میانوالی، جو شعر و نغمہ کی سرزمین کے طور پر جانا جاتا ہے، ہمیشہ سے فنونِ لطیفہ کا مرکز رہا ہے۔ طاہر ساقی بھی اسی شہر کے ایک معزز سادات گھرانے میں 1960 میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم سے لے کر بی اے تک کا سفر میانوالی میں مکمل کیا۔ ان کی موسیقی کی شروعات بھی اسی شہر سے ہوئی، جہاں انہوں نے اپنے فن کا آغاز کیا۔
طاہر ساقی کی دھنوں میں ایک خاص جادو تھا جو سننے والوں کو مسحور کر دیتا تھا۔ ان کی تخلیقات میں محبت، درد، اور زندگی کی حقیقتوں کی عکاسی ہوتی تھی۔ ان کی دھنیں نہ صرف سرائیکی ثقافت کی عکاسی کرتی تھیں بلکہ انہوں نے پاکستانی موسیقی کو بھی ایک نئی شناخت دی۔ ان کی وفات کے بعد، ان کے چاہنے والے اور موسیقی کے شائقین ان کی یادوں میں کھو گئے ہیں۔
ان کی زندگی کا سفر ایک مثال ہے کہ کیسے ایک فنکار اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا سکتا ہے۔ طاہر ساقی کی وفات نے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے سرائیکی وسیب کو متاثر کیا ہے۔ ان کی دھنیں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور ان کی یادیں کبھی مدھم نہیں ہوں گی۔