اسلام آباد: حوثی حملوں کے بعد کارروائی کے تحت سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے اپنے دفاع کے حق اور ذمہ داری کے تحت خطرات کا باعث بننے والوں کے خلاف خصوصی فوجی کارروائی کی ہے۔ یہ کارروائی سعودی عرب کی سرزمین، شہریوں اور وہاں مقیم افراد کے تحفظ کے لیے کی گئی ہے۔
اتحادی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ یہ کارروائی دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور یمن میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بار بار کوششوں کے جواب میں کی گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس کارروائی میں حوثی ملیشیا کے زیرِ قبضہ علاقوں میں واقع فوجی اہداف کو تباہ اور غیر مؤثر بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران بیلسٹک میزائلوں کو ذخیرہ کرنے والے پانچ گودام اور میزائل داغنے کے چار پلیٹ فارم تباہ کیے گئے، جبکہ میزائلوں کے ذخائر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اتحادی افواج کسی بھی خطرے کا مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ ہوا تھا، جس نے خطے میں امن و امان کی صورتحال کو متاثر کیا۔ اتحادی افواج نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گی اور کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو برداشت نہیں کریں گی۔