کراچی: چھوٹی عمر کے لڑکوں کے ذریعے جیب کترے شہر کے مختلف علاقوں میں سرگرم ہوگئے ہیں۔ یہ گروہ خاص طور پر گلشن حدید میں بابِ رحمت مسجد کے قریب شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ حالیہ واقعات نے شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے، کیونکہ یہ نوجوان لڑکے اپنی چالاکی اور پھرتی کی وجہ سے آسانی سے لوگوں کی جیبیں کاٹ لیتے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ لڑکے بڑی تعداد میں ایک جگہ جمع ہو کر کسی ایک شخص کو نشانہ بناتے ہیں۔ ان کی عمر عام طور پر 10 سے 15 سال کے درمیان ہوتی ہے، اور وہ اس کام کو انتہائی مہارت سے انجام دیتے ہیں۔ ایک شہری نے بتایا کہ وہ جب بھی مسجد کے قریب جاتے ہیں تو انہیں خوف محسوس ہوتا ہے کہ کہیں ان کی جیب نہ کٹ جائے۔
پولیس نے اس مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔ تاہم، شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔ ایک مقامی رہنما نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔
یہ صورتحال نہ صرف شہریوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے بلکہ یہ نوجوان لڑکے بھی اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اگرچہ یہ لڑکے جیب کترنے کے کام میں مصروف ہیں، لیکن انہیں اس بات کا احساس نہیں ہے کہ وہ کس طرح اپنی زندگیوں کو برباد کر رہے ہیں۔ اس مسئلے کا حل تلاش کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔