ایران جنگ کا بیانیہ

ایران جنگ کا بیانیہ: بارک اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف مسترد کر دیا

واشنگٹن:
سابق امریکی صدر بارک اوباما نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ ایران جنگ کا بیانیہ مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف عسکری اقدامات اور جارحانہ انداز امریکی مفادات اور عالمی امن کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکی خارجہ پالیسی اور نئے تنازعاتسابق امریکی صدر بارک اوباما نے اپنے ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ سفارت کاری اور معاہدوں کو بالائے طاق رکھ کر صرف طاقت کے استعمال کی بات کرنا شدید گمراہ کن حکمت عملی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں کشیدگی بڑھانے سے نہ صرف مشرق وسطیٰ کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے بلکہ خود امریکہ کو بھی اس کے گہرے اور ناقابل تلافی نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

بارک اوباما نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے دور حکومت میں طے پانے والا جوہر معاہدہ خطے میں ایٹمی پیش رفت کو روکنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کا ایک مؤثر اور کامیاب ذریعہ تھا ، تاہم موجودہ انتظامیہ نے اس سے نکل کر صورتحال کو شدید ناہمواری اور غیر یقینی کا شکار کر دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی پر شدید تنقیدتجزیہ کاروں کے مطابق ، بارک اوباما کی جانب سے ایران جنگ کا بیانیہ اس شدت کے ساتھ مسترد کیا جانا امریکی سیاست میں ایک اہم معرکہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اوباما کا ماننا ہے کہ غیر سنجیدہ اور جارحانہ پالیسیاں صورتحال کو مزید بگاڑ سکتی ہیں ، جس سے عالمی طاقتوں کے ساتھ امریکہ کے اتحادی تعلقات بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

سابق صدر نے امریکی انتظامیہ اور پالیسی سازوں کو مشورہ دیا کہ وہ دانشمندی اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عسکری کارروائیاں مسائل کا دائمی اور پائیدار حل پیش کرنے میں ہمیشہ ناکام رہی ہیں۔

عالمی برادری کے تحفظات اور سفارتی مساعیاس اہم بیان کے بعد بین الاقوامی سطح پر بھی ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ عالمی رہنماؤں اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اندرونی سیاسی اختلافات اور واضح پالیسی کی عدم موجودگی سے ایران کے حوالے سے کوئی متوازن حکمت عملی اپنانے میں دشواری کا سامنا ہو رہا ہے۔

واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں جاری اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ کا بیانیہ نہ صرف عوامی سطح پر تشویش کا باعث بن رہا ہے بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے سرکردہ رہنما بھی اس جارحانہ رویے کو قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں۔

پائیدار امن کے لیے سفارت کاری کی ضرورتاپنے بیان کے اختتام پر بارک اوباما نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی بھی عالمی تنازع کو حل کرنے کے لیے طاقت کے مظاہرے کے بجائے جامع سفارتی حکمت عملی ہی پائیدار امن کی واحد ضمانت ہوتی ہے۔ انہوں نے اقوام عالم پر زور دیا کہ وہ خطے میں کسی بھی نئی تباہ کن جنگ کو روکنے کے لیے اپنا مثبت اور مؤثر کردار ادا کریں۔