انصاف کا قتل کے معاملے نے ہمارے معاشرے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رواں ماہ پیش آنے والے دو واقعات نے عوامی جذبات کو متاثر کیا ہے۔ ایک طرف لائبہ اعجاز کی المناک موت کا معاملہ ہے، جبکہ دوسری طرف ملتان میں ایک یتیم نوجوان کا قتل۔ دونوں واقعات نے لوگوں میں غم، غصہ اور بے بسی کی کیفیت پیدا کی ہے۔لائبہ اعجاز کی موت کے معاملے میں، مرکزی ملزم محمد نعمان کو اپنے ہی ساتھیوں کی مبینہ فائرنگ میں ہلاک کر دیا گیا۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انصاف کے حصول میں رکاوٹیں کس طرح پیدا ہوتی ہیں۔ دوسری جانب، ملتان میں یتیم نوجوان کا قتل ایک اور سنگین مسئلہ ہے، جس نے عوامی ردعمل کو جنم دیا ہے۔یہ دونوں واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں انصاف کا نظام کس قدر کمزور ہو چکا ہے۔ لوگ فطری طور پر انصاف کی توقع رکھتے ہیں، لیکن جب ایسے واقعات پیش آتے ہیں تو سوالات اٹھنے لگتے ہیں کہ کیا واقعی انصاف ملے گا؟انصاف کا قتل کے ان واقعات نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہمیں اپنے نظام انصاف کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ عوامی مطالبات کے باوجود، اگر مجرموں کو سزا نہیں ملتی تو یہ ایک خطرناک صورتحال بن سکتی ہے۔ ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے معاشرتی نظام میں تبدیلی لائیں تاکہ انصاف کا حصول ممکن ہو سکے۔