ماسکو کے ہوائی اڈے ڈرون حملوں کے باعث

بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ماسکو کے ہوائی اڈے یوکرینی ڈرون حملوں کے فوری خطرے کے پیش نظر رات بھر بند رکھے گئے، جس کے نتیجے میں دارالحکومت کا فضائی رابطہ ملک کے دیگر حصوں اور بیرونی دنیا سے بری طرح منقطع ہو گیا۔ حکام کے مطابق فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے 160 سے زائد اندرون اور بیرون ملک پروازیں منسوخ یا موخر کرنا پڑیں، جس سے ہزاروں مسافر شدید مشکلات کا شکار ہو گئے۔ماسکو کے ہوائی اڈے اور پروازوں کی ہنگامی معطلیروس کے دارالحکومت ماسکو کے چاروں کلیدی ہوائی اڈوں جن میں شیریمیتیوو، دومودیدوو، ونوکووو اور ژوکوفسکی شامل ہیں، پر سیکیورٹی الرٹ جاری کر کے تمام فضائی آپریشنز معطل کر دیے گئے۔ روسی ایوی ایشن ایجنسی کے مطابق مسافر طیاروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پروازوں کا رخ دیگر محفوظ شہروں کی جانب موڑ دیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ فضائی حادثے سے بچا جا سکے۔ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں تصدیق کی کہ دارالحکومت کی فضاؤں میں متعدد دشمن ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے بروقت نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈرون گرائے جانے کے ملبے سے زمین پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم دارالحکومت کی سیکیورٹی کو لاحق سنگین خطرات کے پیش نظر ماسکو کے ہوائی اڈے مکمل طور پر عارضی حفاظتی پروٹوکول کے تحت بند کیے گئے۔مسافروں کی مشکلات اور ایئرپورٹس کی صورتحالپروازوں کی اچانک منسوخی کے باعث ہوائی اڈوں کے ٹرمینلز پر مسافروں کا شدید رش دیکھنے میں آیا۔ سینکڑوں ملکی اور غیر ملکی مسافر رات بھر لاؤنجز میں پھنسے رہے جبکہ متعدد پروازوں کو سینٹ پیٹرزبرگ، کازان اور نزنی نووگورود کی طرف موڑ دیا گیا، جس سے ریجنل ہوائی اڈوں پر بھی غیر معمولی دباؤ پیدا ہو گیا۔ ایئر لائنز کی جانب سے مسافروں کو خوراک، رہائش اور متبادل ٹکٹوں کی فراہمی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ صبح کے وقت حالات کا تفصیلی جائزہ لینے اور خطرہ ٹلنے کے بعد روس کی فیڈرل ایئر ٹرانسپورٹ ایجنسی نے پروازوں کی مرحلہ وار بحالی کے احکامات جاری کیے۔ حکام نے وضاحت کی ہے کہ اگرچہ صورتحال بتدریج معمول پر آ رہی ہے، لیکن شیڈول کے شدید متاثر ہونے کی وجہ سے پروازوں کی باقاعدہ روانی بحال ہونے میں کم از کم چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

سیکیورٹی چیلنجز اور دفاعی اقداماتحالیہ مہینوں کے دوران ماسکو اور دیگر اہم روسی شہروں پر یوکرین کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے کیے جانے والے ان حملوں کا بنیادی مقصد شہری اور معاشی بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا ہے، جس کے خلاف روس کا ایئر ڈیفنس سسٹم مکمل طور پر متحرک اور چوکس ہے۔دفاعی مبصرین کے مطابق ماسکو کے ہوائی اڈے پر بار بار پروازوں کی معطلی سے نہ صرف روس کی سول ایوی ایشن انڈسٹری کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے بلکہ دارالحکومت کی فضائی سیکیورٹی کو بھی مستقل بنیادوں پر ری ڈیزائن کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ روسی فضائیہ اور سیکیورٹی ادارے اب دارالحکومت کے گرد ریڈار اور جدید جیمنگ سسٹم کے مزید حلقے قائم کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ حساس تنصیبات کے تحفظ کو مکمل بنایا جا سکے۔