نیٹ فلکس کی برطرفیاں: ایک ہزار ملازمین کی ملازمتیں ختم

لاس اینجلس:عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس نے اخراجات میں کمی اور تنظیمی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے تقریباً 1,000 ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سال 2022 کے بعد کمپنی کی جانب سے ملازمین کی یہ سب سے بڑی برطرفی قرار دی جا رہی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ادارے کو مالی دباؤ اور صارفین (سبسکرائبرز) کی تعداد میں اتار چڑھاؤ کا سامنا ہے۔
نیٹ فلکس انتظامیہ نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام کمپنی کی مالی حالت کو مستحکم رکھنے اور طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر تھا۔ انتظامیہ کے مطابق، اس فیصلے سے مختلف شعبوں کے ملازمین متاثر ہوں گے، جن میں کانٹینٹ پروڈکشن، مارکیٹنگ اور ٹیکنالوجی ڈویژنز شامل ہیں۔ اس چھانٹی کے نتیجے میں لگ بھگ ایک ہزار افراد روزگار سے محروم ہو جائیں گے۔
کمپنی کی جانب سے یہ اقدام عالمی سطح پر اسٹریمنگ سروسز کے درمیان بڑھتے ہوئے شدید مقابلے کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔ ڈزنی پلس اور ایمازون پرائم جیسے بڑے حریفوں کی جانب سے مواد پر بھاری سرمایہ کاری کے باعث نیٹ فلکس اپنے آپریشنل اخراجات کو متوازن رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، کمپنی آمدنی میں اضافے کے لیے سبسکرپشن پلانز کی قیمتوں میں ردوبدل پر بھی غور کر رہی ہے۔
نیٹ فلکس انتظامیہ کے مطابق متاثرہ ملازمین کو ادارے کی پالیسی اور قانونی تقاضوں کے تحت مکمل مالی معاوضہ (سیورنس پیکیج) دیا جائے گا، جبکہ انہیں کیریئر کونسلنگ اور نئی ملازمتوں کے حصول میں بھی ضروری معاونت فراہم کی جائے گی۔