چابہار کی ناکامی گوادر کی کامیابی

چابہار کی ناکامی نے گوادر کی کامیابی کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ پاکستان کو جغرافیے کو تجارت میں بدلنے کا موقع شاذ و نادر ہی ملتا ہے، اور ایران کی چابہار بندرگاہ کے گرد سست روی اس وقت ایسا ہی ایک موقع فراہم کر رہی ہے۔امریکہ کی جانب سے دی گئی پابندیوں سے استثنا sanctions waiverجو انڈیا کو چابہار میں کام جاری رکھنے کی اجازت دیتی تھی، 26 اپریل کو ختم ہو گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے ایرانی انفراسٹرکچر، جہاز رانی اور مالیاتی نظام کے خطرات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

انڈیا کے 2026-27 کے بجٹ میں چابہار کے لیے کوئی نئی رقم مختص نہیں کی گئی، کیونکہ نئی دہلی کا مؤقف تھا کہ وہ بندرگاہ کے آلات کے لیے اپنی 120 ملین ڈالر کی مالی ذمہ داری پوری کر چکا ہے۔ تاہم، انڈیا نے اس منصوبے کو ترک نہیں کیا اور بندرگاہ بدستور فعال ہے۔ نئی دہلی کی اس میں تزویراتی دلچسپی بھی برقرار ہے۔اصل نکتہ یہ ہے کہ چابہار کی ناکامی نے گوادر کی کامیابی کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور کاروباری حلقے اس موقع کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ گوادر کی بندرگاہ کی ترقی اور اس کے ارد گرد کے اقتصادی زونز کی تشکیل سے پاکستان کی معیشت کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔چابہار کی ناکامی کے باوجود، پاکستان کو اپنی جغرافیائی حیثیت کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ چابہار بندرگاہ کی ترقی میں رکاوٹیں ہیں، لیکن گوادر کی کامیابی کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ ہونے دے اور بین الاقوامی تجارت میں اپنی حیثیت کو مستحکم کرے۔