اسلام آباد: مشاہدوں پر اعتبار انسان کی رائے کی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے۔ دنیا میں انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے کم اور دوسروں کی زبانوں سے زیادہ دیکھتا ہے۔ ہم نے اپنی رائے کی باگ ڈور دوسروں کے ہاتھ میں دے رکھی ہے، جس کی وجہ سے ہم اپنی سوچ کو محدود کر لیتے ہیں۔
کسی کے بارے میں ایک جملہ سن کر، ایک قصہ سنا کر، یا ایک شکوہ چھیڑ کر ہم بغیر تحقیق، بغیر توقف، اور بغیر غور و فکر کے اپنے دل کے دروازے بند کر لیتے ہیں۔ یہ عجب زمانہ ہے کہ یہاں کرداروں کا فیصلہ ملاقات سے پہلے ہی ہو جاتا ہے۔ لوگ کسی شخص سے ملے بغیر، اس کے ساتھ ایک لمحہ گزارے بغیر، اس کے لہجے کی نرمی، اس کی نیت کی شفافیت اور اس کے دل کی وسعت دیکھے بغیر، اس کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔
یہ رویہ نہ صرف ہماری سوچ کو متاثر کرتا ہے بلکہ معاشرتی تعلقات کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کے بارے میں اپنی رائے قائم کرنے سے پہلے ان کے بارے میں خود مشاہدہ کریں۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی عقل کو استعمال کریں اور دوسروں کی باتوں کو بغیر سوچے سمجھے قبول نہ کریں۔
آخر میں، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مشاہدوں پر اعتبار کرنا ہماری زندگیوں میں بہتری لا سکتا ہے۔ اگر ہم دوسروں کے بارے میں اپنی رائے خود قائم کریں تو ہم ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔