ایران کی جنگ کی دھمکی

ایران کی جنگی دھمکی کے تحت، میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ اگر دوبارہ جنگ چھڑتی ہے تو ایران خطے میں موجود کئی اہم کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ یہ بیان انہوں نے ایرانی سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دیا۔محسن رضائی نے مزید کہا کہ ایران کی فوجی طاقت اور اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت، دشمن کی تنصیبات کو نشانہ بنانا ممکن ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ کی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات خطے کی معیشت پر بھی پڑیں گے۔ایران کی جانب سے یہ دھمکی ایسے وقت میں دی گئی ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ محسن رضائی نے واضح کیا کہ ایران کی حکمت عملی میں دفاعی طاقت کو بڑھانا اور دشمن کی تنصیبات کو نشانہ بنانا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں ایران کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران اپنی دفاعی حکمت عملی میں کسی قسم کی کمزوری برداشت نہیں کرے گا۔ محسن رضائی نے کہا کہ اگر جنگ چھڑتی ہے تو اس کے نتیجے میں خطے میں موجود 2 ٹریلین ڈالر کی تنصیبات کو خطرہ لاحق ہوگا، جو کہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔