دہشتگردی کی خلاف جنگ کے معاملات پر مذاکرات ناکام ہونے کی تصدیق وزیر ملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی کرانے میں ناکامی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ طلال چودھری نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تمام صوبوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اس بات کا ادراک ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ طلال چودھری نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مذاکرات کی ناکامی نے عوام میں بے چینی پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حالات سے بچا جا سکے۔وزیر مملکت نے واضح کیا کہ حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کی کمزوری برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں کامیابی کے لیے تمام اداروں کو ایک صفحے پر آنا ہوگا۔ طلال چودھری نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے ساتھ مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کریں۔آخر میں، طلال چودھری نے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کے باوجود حکومت دہشتگردی کے خلاف اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور عوام کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے قدم اٹھائے جائیں گے۔