آواز سے عمر میں اضافہ

آواز سے عمر میں اضافہ کی رفتار کا پتہ لگانا ممکن ہے، نئی تحقیق نے اس حوالے سے حیران کن نتائج پیش کیے ہیں۔ سائنس دانوں نے ایک جدید کمپیوٹر نظام تیار کیا ہے جسے ‘سپیچ کلاک’ کہا جاتا ہے۔ یہ نظام بولنے کے دوران آواز کے اتار چڑھاؤ، وقفے اور استعمال کیے گئے الفاظ کی بنیاد پر کسی شخص کی عمر کا اندازہ لگا سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق، نوجوانوں کی آواز میں بولنے کی رفتار تیز، انداز رواں اور وقفے مختصر ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، بڑی عمر کے افراد کی گفتگو عموماً سست اور زیادہ وقفوں والی ہوتی ہے۔ یہ فرق آواز کی نوعیت میں واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے، جو کہ عمر کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔جب اس نظام کو مختلف افراد پر آزمایا گیا تو کچھ لوگوں کی آواز ان کی اصل عمر سے زیادہ بوڑھی محسوس ہوئی۔ ان افراد میں جسمانی بڑھاپے، ذہنی صلاحیت میں کمی اور ڈیمنشیا کی علامات کا امکان بھی زیادہ پایا گیا۔ یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ نظام مستقبل میں مریضوں میں ڈیمنشیا کی ابتدائی جانچ کے لیے ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔تحقیق کے نتائج نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ آواز کی نوعیت اور عمر کے درمیان تعلق کو سمجھنا نہ صرف طبی میدان میں بلکہ سماجی اور نفسیاتی پہلوؤں میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اس طرح کی تحقیق سے ہمیں یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ کس طرح آواز کی تبدیلیاں انسانی صحت اور عمر کے اثرات کی عکاسی کرتی ہیں۔