یمن میں لڑائی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں جنگ کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔ عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، حکومتی افواج اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں، خاص طور پر یمن کے دارالحکومت صنعا اور تیسرے بڑے شہر تعز میں۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، دی نیویارک ٹائمز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یمن کے مختلف علاقوں میں لڑائی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومتی افواج نے حوثی جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں، جس کے نتیجے میں شہری آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔یمن کی موجودہ صورتحال نے بین الاقوامی برادری کی توجہ حاصل کی ہے، اور کئی ممالک نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ لڑائیاں جاری رہیں تو خطے میں ایک بڑی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے، جو نہ صرف یمن بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کو متاثر کرے گا۔یمن میں جاری اس بحران کے حل کے لیے عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں، لیکن ابھی تک کوئی مؤثر حل سامنے نہیں آیا۔ حوثی جنگجوؤں کی جانب سے بھی سخت مزاحمت کی جا رہی ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔