غزہ جنگ کی صورتحال پر سابق اسرائیلی میجر جنرل نیتزان الون نے حیران کن انکشافات کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگ ایک سال پہلے ختم ہو سکتی تھی اور یرغمالیوں کی واپسی کا معاہدہ بھی طے کیا جا سکتا تھا۔ ان کے مطابق، اگر مناسب اقدامات کیے جاتے تو اس تنازعے کا حل ممکن تھا۔الون نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران کئی مواقع ایسے آئے جب مذاکرات کے ذریعے یرغمالیوں کی واپسی ممکن تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی قیادت کی ناکامیوں کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کی جاتی تو انسانی جانوں کا ضیاع کم ہو سکتا تھا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ جنگ کے آغاز سے پہلے ہی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اقدامات کرتی۔ ان کے مطابق، یہ جنگ صرف فوجی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ مذاکرات کے ذریعے بھی ختم کی جا سکتی تھی۔الون کے ان انکشافات نے بین الاقوامی برادری کی توجہ حاصل کی ہے اور اس بات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے تنازعات کے حل کے لیے بہتر حکمت عملی اپنائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے اس جنگ سے سبق سیکھا تو ممکن ہے کہ مستقبل میں ایسے حالات سے بچا جا سکے۔