اسلام آباد:
سعودی عرب کی مدد کا عزم ظاہر کرتے ہوئے قرآن و سنہ موومنٹ کے چیئرمین علامہ ابتسام الہٰی ظہیر نے کہا کہ اگر مکہ معاہدہ موجود نہ ہوتا تو بھی ہم سعودی عرب کی مدد کرتے۔ یہ بات انہوں نے جامعہ بیت العتیق لاہور میں دفاع حرمین شریفین اور دینی موضوعات پر منعقدہ ایک تقریب کے دوران کہی۔
علامہ ابتسام الہٰی ظہیر نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام ہمارے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کا اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب عالمی سطح پر اسلاموفوبیا بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی مدد کرنا صرف ایک اخلاقی فرض نہیں بلکہ یہ ہماری دینی ذمہ داری بھی ہے۔ علامہ ظہیر نے اس موقع پر حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا عزم بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے دین اور مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانا چاہیے۔
آخر میں، علامہ ابتسام الہٰی ظہیر نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ سعودی عرب کی حمایت میں آواز بلند کریں اور اپنے اتحاد کو مضبوط کریں تاکہ ہم سب مل کر اسلام کی خدمت کر سکیں۔