ایف بی آر کا POS سسٹم: پیما کی جانب سے شدید مخالفت

کراچی: ایف بی آر کا POS سسٹم نجی کلینکس کے لیے متعارف کرانے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) نے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔ پیما کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی مریضوں کی پرائیویسی کو خطرے میں ڈالے گی اور اس کے نتیجے میں صحت کی خدمات متاثر ہوں گی۔

پیما کے عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے نظام کا نفاذ نہ صرف مریضوں کی معلومات کی حفاظت کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ طبی عملے کے لیے بھی مشکلات پیدا کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کلینکس کی کارکردگی متاثر ہوگی اور مریضوں کی خدمت میں رکاوٹیں آئیں گی۔

ایف بی آر کا POS سسٹم: اہم تفصیلات اور پس منظر

ایف بی آر کی جانب سے کلینکس پر POS سسٹم کے نفاذ کا مقصد ٹیکس کی وصولی کو بہتر بنانا ہے، لیکن پیما کے مطابق یہ اقدام مریضوں کی رازداری کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ پیما نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے موزوں اقدامات کرے۔

اس خبر کے اہم نکات:

  • پیما نے ایف بی آر کے POS سسٹم کی مخالفت کی ہے۔
  • یہ نظام مریضوں کی پرائیویسی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
  • حکومت سے فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پیما کے عہدیداروں نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے صحت کی خدمات کی ��راہمی میں رکاوٹیں آئیں گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت صحت کے شعبے کی بہتری کے لیے موزوں اقدامات کرے۔ مزید معلومات کے لیے اے ڈی این نیوز اردو پر وزٹ کریں۔