بنگلادیش میں گیس اور بجلی کا شدید بحران، معمولات زندگی مفلوج

ڈھاکا: بنگلادیش میں ایندھن اور گیس کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے باعث دارالحکومت سمیت ملک بھر میں معمولات زندگی شدید متاثر ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گیس کی گھٹتی ہوئی رسد اور پریشر میں اچانک کمی کے باعث عام صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ گھریلو امور اور روزمرہ کے امورِ زندگی میں بھی بڑی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ ڈھاکا کے مختلف علاقوں میں گیس کی غیر اعلانیہ بندش اور تعطل کی مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں، جس سے شہریوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔

ماہرینِ اقتصادیات اور توانائی کے شعبے سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بحران کی بنیادی وجہ درآمدی ایل این جی کی بلند قیمتیں اور ملک میں بڑھتی ہوئی طلب کے درمیان عدم توازن ہے۔ توانائی کے اس بحران نے نہ صرف عام شہریوں کی گھریلو زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے بلکہ صنعتی پیداوار اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ کارخانوں اور ملوں میں گیس کی مسلسل فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب، حکومت کی جانب سے اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکسق نظر آتے ہیں۔ بجلی کی طویل بندش اور گیس کے غائب رہنے سے تعلیمی ادارے، اسپتال اور کاروباری مراکز بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ شہریوں اور تجارتی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر توانائی کے اس بحران پر قابو پانے کے لیے موثر حکمت عملی وضع کرے تاکہ عوام کو مزید اذیت سے بچایا جا سکے اور معاشی پہیہ رواں رکھا جا سکے