ات کے مطابق ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے مذکورہ دوا ‘Citraclor’ کے مختلف بیچز کے نمونے لیبارٹری ٹیس کے لیے لیے تھے، جن کے نتائج انتہائی مایوس کن آئے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس دوا میں شامل کیمیائی اجزاء مقررہ طبی معیار پر پورا نہیں اترتے اور ان کا استعمال مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ محکمہ صحت نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے صوبے بھر کے تمام میڈیکل سٹورز، فارمیسیز اور ڈسٹری بیوٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس دوا کی خرید و فروخت کا سلسلہ ہنگامی بنیادوں پر بند کر دیں اور تمام موجودہ سٹاک فوری طور پر واپس جمع کروائیں۔
صوبائی محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ اور معیاری ادویات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس سلسلے میں صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں ڈرگ انسپکٹرز کو خصوصی ٹاسک فورسز کی صورت میں متحرک کر دیا گیا ہے جو مختلف میڈیکل سٹورز پر اچانک چھاپے مار کر اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ پابندی کا شکار ہونے والی دوا ‘Citraclor’ مارکیٹ میں بالکل دستیاب نہ ہو۔ انتظامیہ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اپنے گھروں میں موجود ادویات کے سٹاک کا جائزہ لیں، اور اگر کسی کے پاس یہ دوا موجود ہے تو اسے فوراً تلف کر دیں یا متعلقہ فارمیسی کو واپس کریں۔
ماہرینِ صحت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی الرجی یا نزلہ زکام کی صورت میں خود ساختہ ادویات یا سلف میڈیکیشن (Self-Medication) سے گریز کریں اور صرف مستند ڈاکٹر کے نسخے کے مطابق معیاری فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی ادویات ہی استعمال کریں۔ محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ غفلت کے مرتکب پائے جانے والے میڈیکل سٹور مالکان اور ڈسٹری بیوٹرز کے خلاف ڈرگ ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کے ساتھ کوئی ولرعایت نہیں برتی جائے گی۔ اس حوالے سے ایک ہیلپ لائن بھی قائم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جہاں شہری غیر معیاری ادویات کے خلاف اپنی شکایات درج کرا سکیں گے۔