تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے ساتھ جاری شدید سیاسی و عسکری کشیدگی اور کڑی اقتصادی پابندیوں کے دوران ایران نے توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت حاصل کی ہے۔ ایران کے جنوبی صوبے فارس میں قدرتی گیس اور کنڈینسیٹ کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں جن کی مالیت اربوں ڈالرز بتائی جا رہی ہے۔
ایرانی وزیر پیٹرولیم محسن پاک نژاد نے اس دریافت کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صوبہ فارس کی نئی فیلڈ میں مجموعی طور پر 7.5 ٹریلین کیوبک فٹ سے زائد گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس فیلڈ سے تقریباً 5.7 ٹریلین کیوبک فٹ قدرتی گیس باآسانی نکالی جا سکے گی۔ یہ مقدار دنیا کے سب سے بڑے گیس فیلڈ جنوبی پارس کے ایک مکمل فیز کی پندرہ سالہ پیداوار کے برابر ہے۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق دریافت ہونے والی گیس سویٹ گیس پر مشتمل ہے جس میں سلفر کی مقدار انتہائی کم ہے۔ اس خصوصیت کے باعث گیس کو صاف کرنے اور نکالنے پر پیداواری اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی اور فیلڈ کو بہت جلد فعال کیا جا سکے گا۔
محسن پاک نژاد کا مزید کہنا تھا کہ قدرتی گیس کے ساتھ ساتھ اس فیلڈ سے مائع گیس کے بھی وسیع ذخائر حاصل ہوں گے۔ پیٹروکیمیکل صنعت کے لیے یہ خام مال غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور اس کی فروخت سے ملکی خزانے میں اربوں ڈالرز کا زرمبادلہ آئے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ایسے نازک وقت پر ہوئی ہے جب امریکا ایران کو عالمی معیشت سے کاٹنے اور توانائی کی برآمدات روکنے کے لیے سخت اقدامات کر رہا ہے۔ ان حالات میں یہ نئے ذخائر نہ صرف ایران کے اندرونی نظام کو مستحکم کریں گے بلکہ خطے میں اس کی توانائی پوزیشن کو بھی مضبوط بنائیں گے۔