معروف قانون دان ایڈووکیٹ محسن سجاد اتراء نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک کے بے جا استعمال نے معاشرتی، خاندانی اور قانونی مسائل میں خطرناک اضافہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق عدالتوں میں ایسے مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے جن میں سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز، تصاویر اور غیر محتاط سرگرمیاں خاندانوں کے ٹوٹنے، بلیک میلنگ اور سائبر جرائم کا سبب بن رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سائبر کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت کسی کی تصاویر یا ویڈیوز کا غلط استعمال، ہراسانی، سائبر اسٹاکنگ اور بلیک میلنگ سنگین جرائم ہیں جن پر سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ایڈووکیٹ محسن سجاد اتراء کے مطابق سوشل میڈیا پر غیر ضروری نمائش میاں بیوی کے درمیان عدم اعتماد، گھریلو تنازعات اور طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کا بھی ایک اہم سبب بن رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نوجوانوں کی غیر محتاط آن لائن سرگرمیاں مستقبل میں ملازمت، بیرون ملک ویزا اور سماجی ساکھ پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں سے باخبر رہیں، انہیں سائبر قوانین سے آگاہ کریں اور پرائیویسی کے اصولوں پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلیک میلنگ یا ہراسانی کی صورت میں فوری طور پر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سے رابطہ کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خاندان کی عزت، نوجوان نسل کے مستقبل اور معاشرتی استحکام کے لیے سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔