کراچی / سکھر: سندھ کے مختلف شہروں میں تیز ہواؤں کے ساتھ آنے والے مٹی کے طوفان اور بعض علاقوں میں طوفانی بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ شدید موسمی صورتحال کے باعث گرمی کی شدت میں کمی ضرور آئی، تاہم مختلف علاقوں میں مالی و جانی نقصان رپورٹ ہوا ہے۔سکھر اور گردونواح میں مٹی کے طوفان کے باعث حدِ نگاہ شدید متاثر ہوئی جبکہ بجلی کے نظام میں خرابی پیدا ہو گئی۔ سیپکو ریجن کے 60 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے جس کے باعث کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔ مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا۔کشمور اور کندھ کوٹ میں تیز ہواؤں کے باعث شہریوں کی سولر پلیٹیں اڑ گئیں اور متعدد گھروں کی چھتوں کو جزوی نقصان پہنچا۔ شہریوں کو روزمرہ امور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری جانب جنوبی پنجاب کے علاقے علی پور میں آندھی کے دوران اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے موضع ڈھاکہ، باقر شاہ اور بستی بگٹی کو متاثر کیا۔ تیز ہوا کے باعث آگ نے شدت اختیار کر لی اور بستی بگٹی میں 40 سے زائد گھر جل کر خاکستر ہو گئے۔واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت 10 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے موسمی صورتحال کے پیش نظر صوبے بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق 2 سے 5 جون کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں آندھی، گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے۔
انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ کچے مکانات، کمزور ڈھانچوں اور اشتہاری بورڈز کے گرنے جیسے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔