تہ محمد: بلوچستان کے شہر اوستہ محمد میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں شادی کے محض 40 روز بعد 20 سالہ دلہن کو مبینہ طور پر اس کے شوہر نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر قتل کر دیا۔پولیس کے مطابق مقتولہ کے جسم، چہرے، ہاتھوں اور گردن پر تشدد کے واضح نشانات پائے گئے ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ کے شوہر کو آلۂ قتل سمیت گرفتار کر لیا، جبکہ دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔مقتولہ صفیہ کے والد تاجل نے پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کی بیٹی کو جھوٹے الزام کے تحت “کاری” قرار دے کر بے دردی سے قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹی کے قتل کے بعد ملزمان اور ان کے ساتھی مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ مقدمہ واپس لے لیا جائے اور صلح کر لی جائے۔مقتولہ کے والد نے اعلیٰ حکام سے تحفظ اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی کو بے گناہ قتل کیا گیا اور اب خاندان کو دھمکیوں کا سامنا ہے۔دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش جاری ہے۔ پولیس کے مطابق تمام مفرور ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔یاد رہے کہ کسی بھی مقدمے میں جرم ثابت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ عدالت کی جانب سے شواہد اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیا جاتا ہے۔