اسلام آباد: آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کرپٹو کرنسی سے متعلق لین دین کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی تیاریاں جاری ہیں، جبکہ کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر 10 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت سے کرپٹو سیکٹر کو باقاعدہ ٹیکس نظام کا حصہ بنانے پر غور کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف نے ڈیجیٹل کاروبار اور ورچوئل اثاثوں سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001 کے سیکشن 37 میں ترمیم کر کے نئی شق 37C شامل کی جا سکتی ہے، جس کے تحت کرپٹو ٹرانزیکشنز سے حاصل ہونے والے کیپیٹل گین پر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔کومتی اندازوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں، جبکہ ڈیجیٹل اثاثوں میں سرمایہ کاری یا لین دین کرنے والوں کی تعداد 2 سے 4 کروڑ کے درمیان ہو سکتی ہے۔ حکام کو توقع ہے کہ کرپٹو ٹرانزیکشنز پر ٹیکس کے نفاذ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کی اضافی آمدن حاصل ہوگی۔ذرائع کے مطابق کرپٹو صارفین، ٹرانزیکشنز اور مجوزہ ٹیکس نظام کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی تھی، جبکہ پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو بھی اس حوالے سے سفارشات تیار کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔رائع کا مزید کہنا ہے کہ چند ماہ قبل اسٹیٹ بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کے منصوبے پر کام شروع کیا تھا۔ مجوزہ نظام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خرید و فروخت ممکن بنائی جا سکے گی، جبکہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔