اسلام آباد (ویب ڈیسک): پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان بجٹ مذاکرات کی اہم تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف درآمدی اشیاء پر ڈیوٹیز میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت درآمدی، ریگولیٹری اور اضافی کسٹمز ڈیوٹیز میں کمی پر غور کر رہی ہے، جس سے کئی شعبوں میں قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔
ممکنہ طور پر سستا ہونے والا سامان:
درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری اور اضافی کسٹمز ڈیوٹیز میں کمی
درآمدی گاڑیاں سستی ہونے کا امکان
برآمدی صنعت کے خام مال پر ٹیکس میں کمی
فائیو جی ٹیلی کام مشینری اور آلات پر ٹیکس میں کمی
زرعی مشینری، آلات اور پرزہ جات پر امپورٹ ڈیوٹی میں کمی
مقامی طور پر نہ بننے والے صنعتی خام مال پر ریلیف
ذرائع کے مطابق حکومت نے نیشنل ٹیرف پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا ہے جس کا مقصد آئی ایم ایف اہداف کے مطابق ٹیرف نظام کو بہتر بنانا اور مقامی صنعت کو مسابقت کے قابل بنانا ہے۔
ٹیرف میں مجوزہ تبدیلیاں:
15 فیصد سلیب کی 518 ٹیرف لائنز پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی ختم ہونے کا امکان
20 فیصد سلیب کی 2166 لائنز پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی 4 فیصد سے کم ہو کر 2 فیصد
20 فیصد سے زیادہ ڈیوٹی والی 468 لائنز پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی 6 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد
اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں اور بائیکس کی اسمبلنگ کے لیے مشینری اور آلات پر بھی اضافی کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کی تجویز زیر غور ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ اقدامات منظور ہو گئے تو درآمدی اشیاء، صنعتی خام مال اور ٹیکنالوجی مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی آ سکتی ہے۔