قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں پیٹرولیم لیوی، توانائی پالیسی اور مختلف حکومتی منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اجلاس کے دوران رکن کمیٹی مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پیٹرول پر 80 روپے لیوی کا ہدف دیا گیا تھا، تاہم اس وقت پیٹرول پر 80 کے بجائے 117 روپے لیوی وصول کی جا رہی ہے۔
رکن کمیٹی جاوید حنیف کے مطابق حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر مجموعی طور پر 160 روپے لیوی کا ہدف مقرر کیا تھا، اور پیٹرول پر زیادہ جبکہ ڈیزل پر کم ٹیکس لگا کر مجموعی ہدف پورا کیا جا رہا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت نئی موبائل مینوفیکچرنگ پالیسی متعارف کرانے جا رہی ہے جس کا مقصد ملک سے ڈالر کے اخراج کو روکنا ہے۔ تاہم اس پر سوال اٹھایا گیا کہ موبائل پارٹس کی درآمد کے باعث ڈالر کا بہاؤ اب بھی جاری ہے۔
کمیٹی کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ ملک میں کاربن لیوی کے تحت 37 ارب روپے جمع کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 9 ارب روپے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سبسڈی کی صورت میں استعمال کیے گئے۔
مزید بتایا گیا کہ ملک بھر میں الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز کے لیے اس سال 240 کا ہدف رکھا گیا تھا، لیکن اب تک صرف 50 اسٹیشنز قائم کیے جا سکے ہیں۔
اجلاس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ حکومت نے 88 ملین پرانے پنکھے تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ بجلی کی بچت کی جا سکے، تاہم موجودہ رفتار سے یہ ہدف حاصل کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔