کراچی کی ایک عدالت میں پیشی کے دوران منشیات اسمگلنگ کیس کی ملزمہ انمول عرف “پنکی” نے شدید ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے پولیس پر تشدد کے الزامات عائد کر دیے۔
عدالت میں پیشی کے دوران صورتحال
سخت سیکیورٹی میں کمرہ عدالت لائی جانے والی ملزمہ نے سماعت کے دوران اچانک شور شرابہ شروع کر دیا اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کی۔ اس موقع پر عدالت میں موجود افراد کے سامنے صورتحال کافی کشیدہ ہو گئی۔
ملزمہ کے الزامات
ملزمہ انمول عرف پنکی نے میڈیا اور عدالت کے سامنے روتے ہوئے کہا:
“میرا کوئی قصور نہیں، مجھے بے گناہ پھنسایا گیا ہے۔ پولیس مجھے مارتے ہیں اور مجھ پر تشدد کرتی ہے۔”
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی ہو رہی ہے اور ان کے خاندان کو بھی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پولیس کا مؤقف
پولیس کی جانب سے ابتدائی طور پر مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمہ کو قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا گیا تھا اور سیکیورٹی کے دوران کوئی غیر قانونی اقدام نہیں کیا گیا۔
عدالت کی کارروائی
عدالت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی ہے جبکہ صورتحال کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔
واقعے کے بعد عدالت کے اندر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے