سکھر (ویب ڈیسک): سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے 8 افراد کی گمشدگی سے متعلق درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اہم حکم جاری کیا ہے۔
عدالت نے آئی جی سندھ پولیس، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی کو ہدایت دی ہے کہ تمام لاپتا افراد کو 19 مئی تک بازیاب کرا کر عدالت میں پیش کیا جائے۔
درخواست گھوٹکی کے علاقے جروار کے قریب گاؤں دبی کے رہائشی سید محمد نواز شاہ کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس کی سماعت جسٹس محمود اے خان اور جسٹس محمد عبدالرحمان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔
درخواست گزار کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ ایک ہفتہ قبل پولیس نے مبینہ طور پر گھر پر چھاپہ مارا، جس دوران چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا اور اہلخانہ پر تشدد بھی کیا گیا۔
وکلا کے مطابق پولیس نے گھر سے عدنان شاہ، آرم نواز، بشریٰ زوجہ عمران شاہ، رخسانہ زوجہ عرفان شاہ، بچی بختاور، 9 ماہ کے بچے محمد موسیٰ، عجوہ عزیز اور پلوشہ کو حراست میں لینے کے بعد لاپتا کر دیا۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ لاپتا افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور انہیں تحفظ و انصاف فراہم کیا جائے۔
عدالت نے کیس پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے تمام متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ مقررہ تاریخ تک تمام لاپتا افراد پیش کیے جائیں۔