تہران: ایرانی سرکاری میڈیا نے واضح کیا ہے کہ ایران کا فجیرہ میں آئل فیسلٹی پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور نہ ہی متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کا کوئی منصوبہ بنایا گیا
سرکاری میڈیا کے مطابق سینئر فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ایران یو اے ای پر حملے کا خواہاں نہیں، تاہم خبردار کیا گیا ہے کہ اگر متحدہ عرب امارات نے کسی بھی قسم کا غیر دانشمندانہ اقدام کیا تو اس کے مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ حکام نے مزید کہا کہ یو اے ای کو اپنی سیکیورٹی کی کمزوریوں کا بخوبی علم ہے۔ایرانی حکام نے فجیرہ واقعے کو امریکی مہم جوئی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں غیر قانونی گزرگاہ قائم کی، جس کے باعث یہ واقعہ پیش آیا۔ ایرانی فوجی حکام نے اس واقعے کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرایا ہے۔دوسری جانب اماراتی وزارت دفاع کے مطابق 4 مئی کو 12 بیلسٹک میزائل، 3 کروز میزائل اور 4 ڈرونز کو تباہ کیا گیا۔ادھر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اماراتی صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے امارات پر مبینہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی اور مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
قطری وزارت خارجہ کے مطابق امیر قطر نے بھی یو اے ای کے صدر سے رابطہ کر کے یکجہتی کا اظہار کیا اور امارات کی سلامتی کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔