کراچی میں اتوار کے روز امریکی قونصل خانے کے باہر مظاہرین کے حملے کے دوران وہاں تعینات امریکی میرینز نے فائرنگ کی، جس سے اب تک 10 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق مظاہرین نے قونصل خانے کی بیرونی دیوار توڑ دی، جس کے بعد سیکیورٹی پر مامور میرینز نے فائرنگ کی۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ ابھی معلوم نہیں کہ ہلاکتیں میرینز کی گولیوں سے ہوئی ہیں یا مقامی پولیس اور نجی سیکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے۔مشتعل مظاہرین ‘امریکا مردہ باد’ کے نعرے لگا رہے تھے، اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے فائرنگ کے جواب میں قونصل خانے کے اندر سے گولیاں چلائی گئیں۔صوبائی حکومت کے ترجمان نے سیکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ کی تصدیق کی، تاہم فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کے ادارے کا ذکر نہیں کیا۔وزیر اعلیٰ سندھ نے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں میں اب تک 20 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جس کے بعد حکومت نے بڑے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں امریکی سفارتی مشنز کی سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے، اور قونصل خانے تک جانے والے تمام راستے بند ہیں۔