قومی احتساب بیورو (نیب) کے ڈپٹی چیئرمین سہیل ناصر نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے محکمہ انصاف کے ساتھ معاہدہ جلد طے پانے جا رہا ہے، جس کے بعد یو اے ای میں پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق اہم پیش رفت اور خوشخبری سامنے آئے گی۔اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران سہیل ناصر کا کہنا تھا کہ ماضی میں نیب کو شدید تنقید کا سامنا رہا، تاہم اب عوام، بیوروکریسی، بزنس کمیونٹی اور پارلیمنٹیرینز کا ادارے پر اعتماد بحال ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ احتساب کے عمل میں کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔ڈپٹی چیئرمین نیب نے بتایا کہ بیرونِ ملک کرپشن سے جڑی جائیدادوں کی تفصیلات حاصل کرنا ایک مشکل عمل ہے کیونکہ کئی ممالک ریکوری میں تعاون نہیں کرتے، جبکہ منی لانڈرنگ کے ذریعے رقوم کی واپسی بھی بڑا چیلنج ہےڈی جی نیب امجد مجید اولک نے بریفنگ میں انکشاف کیا کہ سال 2025 میں نیب نے 6 ٹریلین روپے سے زائد کی ریکوری کی جو 22.19 ارب ڈالر بنتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں 29 ارب روپے مالیت کی اراضی اور 5 ٹریلین روپے مالیت کی جنگلاتی زمین واگزار کرائی گئی۔ڈی جی نیب کے مطابق کوہستان اسکینڈل میں 26.44 ارب روپے کی ریکوری ہوئی جبکہ گلبرگ اسلام آباد میں کرپشن کے پیسوں سے تعمیر کیا گیا ایک شاندار گھر بھی تحویل میں لے لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں سمندر کی چار لاکھ ایکڑ غیر رجسٹرڈ اراضی کو بھی ریونیو ریکارڈ میں شامل کیا جا رہا ہے۔