کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی جانب سے 14 فروری کو دھرنے کے اعلان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حافظ نعیم الرحمان یا تو اپنی نشست چھوڑیں یا پھر اسمبلی میں آ کر اپنا کردار ادا کریں۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پولیو مہم کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حافظ نعیم الرحمان پہلے الیکشن میں حصہ لے کر کامیاب ہوں، جسے قابض ٹولہ کہا جا رہا ہے وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آیا ہے۔مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ شاہراہ فیصل اور دیگر اہم شاہراہوں کو بند نہیں ہونے دیا جائے گا، کیونکہ دھرنوں کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اب تک لوکل گورنمنٹ کے انتخابات نہیں ہوئے، جب وہاں بلدیاتی الیکشن ہوں گے تو وہاں جا کر حصہ لیںان کا کہنا تھا کہ حافظ نعیم الرحمان نے تاحال حلف نہیں اٹھایا، وہ یا تو اسمبلی میں آ کر کام کریں یا پھر نشست چھوڑ دیں، چھوٹے موٹے دھرنوں سے کوئی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔سانحہ گل پلازہ سے متعلق بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ انکوائری رپورٹ آ چکی ہے، بعض افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے بھی خط لکھ دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ سانحے کے 26 شہدا کے اہل خانہ کو ان کے گھروں پر جا کر امدادی چیک فراہم کیے گئے ہیں اور اس عمل کے دوران میڈیا کو ساتھ نہیں لے جایا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے اپیل کی کہ گل پلازہ سانحے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور خبردار کیا کہ اگر کسی جماعت نے مہم کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔