ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کراچی کو وفاق کے انتظام میں دینے اور اٹھارویں آئینی ترمیم کے خاتمے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم عوام کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوئی بلکہ یہ ایک ناسور بن چکی ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاق آئین کے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرے اور کراچی کو وفاق کا حصہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بچانے اور مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے اٹھارویں ترمیم کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو جو ناجائز اختیارات دیے گئے وہ عوام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ ترمیم سندھ میں جمہوری دہشت گردی کا باعث بن رہی ہے اور اسے نسل کشی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ایم کیو ایم رہنما نے گل پلازہ آتشزدگی کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم جانوں کے ضیاع پر وہ متاثرین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی گزشتہ 18 برس سے سندھ میں حکومت کر رہی ہے اور اگر وہ کچھ کرنا چاہتی تو کراچی کے حالات آج اس نہج پر نہ ہوتے۔مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ شفاف مردم شماری کے بغیر صوبے میں حقیقی نمائندگی ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بھی چاہ کر سندھ کے لیے کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ پیپلز پارٹی ناراض ہو جاتی ہے، اس لیے ریاستی ادارے آگے بڑھیں اور اٹھارویں ترمیم کا خاتمہ کریں۔